وزن کم کرنا گو کہ بعض لوگوں کے لیے چیلنچ کی صورت اختیار کر جاتا ہے لیکن آپ کے پاس مناسب معلومات دستیاب ہوں تو یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ لیکن کیا کیجیے کہ مناسب معلومات ہی تو نہیں ملتیں۔ اور وہ بھی خاص کر اردو میں۔۔۔
لیکن ہم ہیں نا۔
ایک بہت مایوس کن رجحان جو لوگوں میں وزن کم کرنے کے حوالے سے دیکھنے میں آتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ ورزش ہے۔ حالانکہ درحقیقت ورزش سے کہیں زیادہ اہم وہ خوراک ہے جو آپ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ جی ہاں۔ آپ کو ورزش سے زیادہ توجہ اپنی خوراک کم کرنے پر دینے کی ضرورت ہے۔
آئیے ذرا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فرض کیجیے آپ اپنے بھاری بھرکم بدن کو مناسب حد پر لانا چاہتے ہیں۔ اور آپ دن بھر میں اپنی جسمانی ضروریات سے 1000 کیلوریز زیادہ کی خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ اب ان 1000 اضافی کیلوریز کا کیا کرنا چاہیے؟
آپ کہیں گے، ورزش۔ ہے نا؟
جی نہیں، حضور۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ورزش سے بہت کم کیلوریز خرچ ہوتی ہیں۔ اس سے کہیں کم جتنا آپ کے ذہن میں ہے۔ مسلسل تیس منٹ کی جاگنگ یا تیراکی سے بھلا کتنی کیلوریز جلتی ہوں گی؟ سوچ ہے آپ کی۔ صرف 350۔ جی ہاں۔ اگر آپ مسلسل تیس منٹ جاگنگ یا تیراکی کر کے پسینہ پسینہ ہو جائیں تو بھی آپ نے صرف 350 کیلوریز سے چھٹکارا حاصل کیا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ مسلسل آدھا گھنٹا جاگنگ یا تیراکی بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ زیادہ تر لوگ، چاہے وہ بھاری بھرکم ہوں یا دبلے پتلے، روزانہ تیس منٹ کی سخت ورزش نہیں کر سکتے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہفتے میں دو تین بار۔ اور بس۔
ورزش کے بہت سے فوائد ہیں۔ مگر وزن کم کرنے کے لیے آپ صرف ورزش پر بھروسا نہیں کر سکتے۔ امریکیوں کے بارے میں ایک عام خیال ہے کہ وہ چاق و چوبند رہنے پر توجہ نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں موٹاپے میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لیکن ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2001 سے 2009 تک جسمانی طور پر متحرک اور سرگرم رہنے والے امریکیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ لیکن یہی اضافہ موٹے امریکیوں کی شرح میں بھی دیکھنے میں آیا۔ لو کر لو گل۔۔۔
یہ بات اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ جسمانی سرگرمیوں کا وزن کم کرنے سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ متحرک لوگوں کی تعداد میں اضافے سے موٹے لوگوں کی تعداد کم نہیں ہوئی۔
تحقیقات نے یہ بات مزید واضح کر دی ہے۔ 2011 میں ہونے والے ایک مابعد تجزیے میں بچوں کی اچھل کود اور سرگرمی وغیرہ اور ان کے جسم پر موجود چربی کے مابین تعلق پر غور کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ سرگرم اور متحرک بچے بھی زیادہ وزن کے حامل ہو سکتے ہیں اور ان کی اچھل کود چربی گھٹانے میں کسی کام نہیں آتی۔
مزید یہ کہ ورزش بھوک میں اضافہ کرتی ہے۔ ظاہر ہے جب آپ کی کیلوریز جلتی ہیں تو جسم مزید کیلوریز کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک مطالعے نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ ورزش کرنے والے لوگ توقع سے کم وزن گھٹاتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ زیادہ کیلوریز لینا شروع کر بیٹھتے ہیں۔.
ارے ارے نہیں۔ ناراض مت ہوئیے۔ ہمارا مطلب یہ نہیں کہ ورزش سے فرق نہیں پڑتا۔ سائنس کا بھی یہ مطلب نہیں ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ فرق کافی تھوڑا ہوتا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ کھانا پینا کم کیجیے۔ اور پھر ورزش بھی جاری رکھیے۔ خالی خولی ورزش سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہونے والا۔ چاہے آپ ناراض ہی کیوں نہ ہو جائیں۔۔۔



0 آراء:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں