صفحات

Subscribe:

پیر، 15 جون، 2015

انسانی دماغ کھانے والا قبیلہ بازی لے گیا

انسانی دماغ کھانے والا قبیلہ بازی لے گیا - صحت آن لائن
پاپوا نیو گنی میں فور نام کا ایک آدم خور قبیلہ پایا جاتا ہے۔ آدم خوری کے باعث اس قبیلے میں دماغ کی ایک بیماری پھیل گئی جسے کورو کہا جاتا ہے۔ اس بیماری نے فور قبیلے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور بڑی تعداد میں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاہم حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ اس قبیلے کے کچھ لوگوں میں ایک خاص جین دیکھا گیا ہے جو نہ صرف کورو بلکہ دیگر اس قسم کی بیماریوں مثلاً پاگل گائے یا میڈ کاؤ وغیرہ کے خلاف بھی مزاحمت  رکھتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اب شاید وہ اس نوع کی دماغی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے اور اس قسم کے مریضوں کے لیے بہتر علاج تجویز کر سکیں گے۔
پاپوا نیو گنی کے اس وحشی قبیلے میں ایک رسم چلی آتی تھی جس میں وہ اپنے مر جانے والے عزیزوں  کا دماغ کھا جایا کرتے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں قبیلے کے لوگوں میں اعصاب اور دماغ سے متعلق وہ بیماری پھیلنا شروع ہو گئی جسے کورو کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ پرائین ہوتے ہیں جو وائرس سے مشابہ چھوٹے چھوٹے ملفوف لحمیاتی ذرات ہوتے ہیں اور دماغ میں زخم پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ تھا اس بیماری کا آغاز جو 1950 کی دہائی میں اس طرح اپنے عروج کو پہنچی کہ ہر سال قبیلے کے تقریباً 2 فیصد افراد اس کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے۔
پچاس کی دہائی کے اواخر میں قبیلے نے تنگ آ کر آدم خوری سے توبہ کی اور مردوں کے دماغ تناول کرنا چھوڑ دیے۔ اس سے کورو کے مریضوں کی تعداد میں کمی ہو گئی۔ لیکن یہ ان بیماریوں میں سے ہے جو نہایت طویل وقت کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ لہٰذا پرانے مریض کافی عرصہ بعد تک سامنے آتے رہے۔

وزن کم کرنے کے لیے کم کھانا ورزش سے زیادہ ضروری ہے

وزن کم کرنے کے لیے کم کھانا ورزش سے زیادہ ضروری ہے - صحت آن لائن
وزن کم کرنا گو کہ بعض لوگوں کے لیے چیلنچ کی صورت اختیار کر جاتا ہے لیکن آپ کے پاس مناسب معلومات دستیاب ہوں تو یہ کوئی اتنی  بڑی بات نہیں۔ لیکن کیا کیجیے کہ مناسب معلومات ہی تو نہیں ملتیں۔ اور وہ بھی خاص کر اردو میں۔۔۔
لیکن ہم ہیں نا۔
ایک بہت مایوس کن رجحان جو لوگوں میں وزن کم کرنے کے حوالے سے دیکھنے میں آتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ ورزش ہے۔ حالانکہ درحقیقت ورزش سے کہیں زیادہ اہم وہ خوراک ہے جو آپ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ جی ہاں۔ آپ کو ورزش سے زیادہ توجہ اپنی خوراک کم کرنے پر دینے کی ضرورت ہے۔
آئیے ذرا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فرض کیجیے آپ اپنے بھاری بھرکم بدن کو مناسب حد پر لانا چاہتے ہیں۔ اور آپ دن بھر میں اپنی جسمانی ضروریات سے 1000 کیلوریز زیادہ کی خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ اب ان 1000 اضافی کیلوریز کا کیا کرنا چاہیے؟
آپ کہیں گے، ورزش۔ ہے نا؟
جی نہیں، حضور۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ورزش سے بہت کم کیلوریز خرچ ہوتی ہیں۔ اس سے کہیں کم جتنا آپ کے ذہن میں ہے۔ مسلسل تیس منٹ کی جاگنگ یا تیراکی سے بھلا کتنی کیلوریز جلتی ہوں گی؟ سوچ ہے آپ کی۔ صرف 350۔ جی ہاں۔ اگر آپ مسلسل تیس منٹ جاگنگ یا تیراکی کر کے پسینہ پسینہ ہو جائیں تو بھی آپ نے صرف 350 کیلوریز سے چھٹکارا حاصل کیا ہے۔