پاپوا نیو گنی میں فور نام کا ایک آدم خور قبیلہ پایا جاتا ہے۔ آدم خوری کے باعث اس قبیلے میں دماغ کی ایک بیماری پھیل گئی جسے کورو کہا جاتا ہے۔ اس بیماری نے فور قبیلے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور بڑی تعداد میں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاہم حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ اس قبیلے کے کچھ لوگوں میں ایک خاص جین دیکھا گیا ہے جو نہ صرف کورو بلکہ دیگر اس قسم کی بیماریوں مثلاً پاگل گائے یا میڈ کاؤ وغیرہ کے خلاف بھی مزاحمت رکھتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اب شاید وہ اس نوع کی دماغی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے اور اس قسم کے مریضوں کے لیے بہتر علاج تجویز کر سکیں گے۔
پاپوا نیو گنی کے اس وحشی قبیلے میں ایک رسم چلی آتی تھی جس میں وہ اپنے مر جانے والے عزیزوں کا دماغ کھا جایا کرتے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں قبیلے کے لوگوں میں اعصاب اور دماغ سے متعلق وہ بیماری پھیلنا شروع ہو گئی جسے کورو کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ پرائین ہوتے ہیں جو وائرس سے مشابہ چھوٹے چھوٹے ملفوف لحمیاتی ذرات ہوتے ہیں اور دماغ میں زخم پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ تھا اس بیماری کا آغاز جو 1950 کی دہائی میں اس طرح اپنے عروج کو پہنچی کہ ہر سال قبیلے کے تقریباً 2 فیصد افراد اس کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے۔
پچاس کی دہائی کے اواخر میں قبیلے نے تنگ آ کر آدم خوری سے توبہ کی اور مردوں کے دماغ تناول کرنا چھوڑ دیے۔ اس سے کورو کے مریضوں کی تعداد میں کمی ہو گئی۔ لیکن یہ ان بیماریوں میں سے ہے جو نہایت طویل وقت کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ لہٰذا پرانے مریض کافی عرصہ بعد تک سامنے آتے رہے۔


